کم گو

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - کم سُخن، کم بولنے والا نیز وہ شاعر جو کم یا کبھی کبھار شعر کہتا ہو۔ "ہمارے ایک اور شاعر دوست بڑے شریف بڑے مرنجاں مرنج، بڑے کم گو، بڑے موٹے، بڑے کند ذہن ہیں۔"      ( ١٩٨٨ء، یادوں کے گلاب، ١٨٦ )

اشتقاق

فارسی سے ماخوذ صفت 'کم' کے ساتھ فارسی مصدر 'گفتن' کا صیغۂ فعل امر 'گو' بطور لاحقۂ فاعلی ملنے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت اور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٧١٨ء کو "دیوانِ آبرو" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کم سُخن، کم بولنے والا نیز وہ شاعر جو کم یا کبھی کبھار شعر کہتا ہو۔ "ہمارے ایک اور شاعر دوست بڑے شریف بڑے مرنجاں مرنج، بڑے کم گو، بڑے موٹے، بڑے کند ذہن ہیں۔"      ( ١٩٨٨ء، یادوں کے گلاب، ١٨٦ )